ہفتہ، 4 دسمبر، 2021

مہاجر، الطاف حسين ۽ سنڌ

ھي لکڻي ھڪ مھاجر نوجوان جي آھي، نئين نسل مان قوميت جي بنياد تي رکيل نفرتن جو خاتمو ٿي رھيو آھي جيڪا خوشيءَ جھڙي ڳالھ آھي.
گذريل جمعي تي ھڪ مھاجر دوست سان ملاقات ٿي جيڪو پڻ سنڌي ۽ مھاجر جھيڙي جو مخالف نظر آيو.
ثقافتي ڏھاڙي جي موقعي تي نفرتن کي وساري ھڪ قوم بڻجي پنھنجي حقن لاءِ سنڌ جي حقن لاءِ اٿڻ گھرجي.



" مہاجر الطاف حسین اور سندھ "

عبد اللہ ايوب


8 فروری 2020 کو فیسبک پر نشر ہونے والے قائد تحریک جناب الطاف حسین بھائی کے خطاب کو سننے کے بعد میرے نظریہ میری سوچ میں کافی تبدیلی آئی ہے. 
سندھ میں رہنے والے سندھی بولنے والے ہمارے دشمن نہیں ہے. یہ بات اس ایک سال میں ، میں نے کنفرم کر لی ہے،  میرے قائد کے نظریہ کو جس نظر سے میں نے دیکھا وہ یہی کہتا ہے،  آج میرے اپنے کچھ لوگ قائد تحریک کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں یہ کہہ کر کہ اس نے جئے سندھ کا نعرہ کیوں لگایا،  یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے بائیس اگست سے پہلے الطاف حُسین کے نام کا غلط استعمال کیا ہے،  مال و دولت بنائی ہے،  کہتے ہیں کہ جی الطاف حسین نے مہاجر نام پر سیاست کرنی تھی تو اب یہ سندھیوں کی حمایت کیوں کررہا ہے ارے بھائی آپ کہتے ہو کہ الطاف ہمارا لیڈر ہے لیکن آپ نے اپنے لیڈر کو پہچانا ہی نہیں آج تک، میں نے جس نظر سے الطاف حسین کو دیکھا ہے تو وہ یہی کہ  الطاف حسین ہر  مظلوم کی آواز ہے پاکستان میں رہنے والا ہر وہ شخص جس کے ساتھ ظلم ہوا ہے یا ہوررہا ہوگا الطاف حُسین اس کا درد اپنے دل میں رکھتا ہے خواہ اس کا تعلق کسی بھی ذات سے ہو الطاف حسین بخوبی واقف تھے کہ  پاکستان میں ہر ذات  میں مظلوم ہیں بلخصوص مڈل کلاس لوگ ، اور ہر ذات میں ہی ظالم ہیں خواہ وہ سندھی زمیندار جاگیردار وڈیرا ہو یا کراچی کا کوئی بزنس مین ، پنجاب کا چودھری ہو یا بلوچستان کا نواب،  الطاف حسین نے جب یہ دیکھا کہ پاکستان میں صرف مہاجر ہی مظلوم نہیں ہیں جبھی تو ملک کا مفاد بلائے تر رکھتے ہوئے 1997 میں مہاجر قومی موومنٹ کو متحدہ قومی مومنٹ میں تبدیل کیا،  الطاف حسین کو کریٹیسائز کرنے والے وہی لوگ ہیں جو سڑک چھاپ سے سپر اسٹار بن گئے تو باپ کو ہی بھول گئے،  الطاف حسین کی وہ تقریر حرف بہ حرف درست تھی،  سندھ بھی ہمارا ہی ہے. قیام پاکستان کے لئے اگر لیاقت علی خان کی قربانی ہے تو پیر صبغت اللہ راشدی( سورھیا بادشاہ ) کی بھی لازوال قربانی ہے،  اگر سر سید احمد خان کی محنت ہے تو سائین جی ایم سید کی بھی ناقابل بیان محنت ہے. سندھی بھی پاکستان کے خیر خواہ ہیں اور سندھی بھی مظلوم ہیں، مہاجر شہید عظیم احمد طارق کے ساتھ ظلم ہوا ہے تو سندھی بشیر قریشی کے ساتھ بھی ظلم ہوا ہے،  اگر ریاستی ظالم اداروں کے ہاتھوں مہاجر پروفیسر ڈاکٹر حسن ظفر عارف شہید ہوئے ہیں تو  سندھی مظفر بھٹو بھی اُن ہی ظالموں کے ہاتھوں ظلم کی بھینٹ چڑھیں ہیں،  اگر مہاجر آفتاب احمد ، وقاص بھائی،  فاروق پٹنی،  فہیم کمانڈو بھائی شہید ہوئے ہیں تو سندھی آصف پھنور،  سلمان ودھو،  مقصود قریشی،  نواز کنرانی بھی شہید ہوئے ہیں، اور حال ہی میں ہونے والے ناظم جھوکیو کے ساتھ بھی تو ظلم ہی ہوا ہے، اور ان جیسے بے شمار شہداء کا لہو ہم پر قرض ہے ، اور ہمیں ان شہداء کے لہو کی عظمت کو پامال اب مزید نہیں ہونے دینا ،  سندھی مہاجر میں کوئی جگھڑا نہیں ہے ، ہاں کہیں کہیں اختلاف ضرور ہے اور یہ بھی ان فسادیوں ان نامعلوم کی طرف سے فقط ہمیں تقسیم کرنے کے کی ہی سازش ہے آئیں اب ان اختلافات کو بھی دور کرنے کی کوشش کریں،  آج یہ عہد کرلیں کہ اب ہم محبتیں بانٹیں گے اور نفرتوں کا خاتمہ کرنے کی کوشش کرینگے اور ظالموں ، قاتلوں سے مل کر یکجاں ہوکر مقابلہ کریں گے. 

ایکتا جو ڈیھاڑو مبارک ھجی ❤

جئے الطاف حسین 
جئے مہاجر 
جئے سندھ ❤️
ظلم کے ہوتے ہوئے امن کہاں ممکن یارو 
اسے مٹا کر جگ میں امن بحال کرو
حبیب جالب

جمعرات، 2 دسمبر، 2021

کرسٹل ڈرگس اور بلوچستان کی نئی نسل

جلیلا حیدر
ہیومن رائٹس ورکر 


سن 2019 میں مجھ سے ایک لڑکی نے رابطہ کیا کہ میڈم آپ ہیومن رائٹس پر کام کرتی ہے میرے بہن کو انصاف دیں اسکے ساتھ بہت برا ہوا ہے۔ میں نے کہا آپ چیمبر آجائے تو اس نے 



کہا کہ نہیں کل عدالت ملتے ہے میں بہن کو بھی لاتی ہوں۔ 
خیر وہ عدالت آگئی، لڑکی خود کوئٹہ ایک ہوٹل میں کام کرتی تھی۔ میں پوچھا کہ کہاں ہے بہن، مجھے لگا کہ بہن شاید بڑی خاتون ہوگی، گھریلو ناچاقی یا تشدد کا مسلہ ہوگا۔سامنے آنے پر 13 سال کی لڑکی تھی۔ میں نے کہا یہ بہن ہے اسکو کیا ہوا ہے؟ تو اس لڑکی نے بتایا کہ اسکی بہن کرسٹل نامی ڈرگ استعمال کرتی ہے اور کوئی گروہ ہے جو ان سے جسم فروشی بھی کرتے ہے۔ مجھے ابھی پتہ چلا ہے۔ میں نے یکدم کہا استغاثہ کرتے ہے۔ خیر کچھ دیر میں ایکدم میری نظر بچی کے گردن پر بہت بڑے چاقو کے کٹ کا نشان پر پڑی تو پوچھا یہ کیا ہوا ہے، تو اس بچی نے کہا کہ مجھے نہیں معلوم کہاں کٹ لگی ہے۔ اس کے بہن نے بتایا کہ اس نے خود اپنا گردن کاٹنے کی کوشش کی یے جب یہ نشے میں تھی۔ میں تو حیران ہی رہ گئی۔ خیر استغاثہ جس مجسٹریٹ کے سامنے جمع کیا اس نے بتایا کہ میڈم اس کیس میں تو پہلے سے راضی نامہ ہوچکا ہے۔ میں نے کہا یہ کیسے ہوسکتا ہے تو اس نے بتایا کہ فیملی نے معاف کیا ہے۔ جب ہم کورٹ روم سے نکلے تو بہن جب بات کر رہی تھی اسکے آستین بھی تھوڑا آگے پیچھے ہوا، میں نے دیکھا کہ اسکا یعنی بڑی بہن کے اپنے ہاتھ پر بھی کٹس کے نشان تھے۔ جو بچی تھی اسکی تو اللہ معافی اتنے کٹس کے نشان تھے کہ آپ سوچ نہیں سکتے۔ خیر اس کیس میں پیشرفت نہیں ہوسکی۔ بعد میں ایک وکیل دوست نے بتایا کہ یہ پورا خاندان اس کام میں ملوث ہے اور پیسوں کے لین دین پر انکی لڑائی ہوئی تھی تو ایک دوسرے کے خلاف مقدمہ کیا تھا۔ 
میں گھر آئی انٹرنٹ سے جدید منشیات پر آرٹیکلز پڑھنا شروع کیا جس میں ایک نشہ کرسٹل کا ہے، جو لوگوں کو ہیلوسینیشن میں مبتلا کرتا ہے۔ یعنی ایک ایسی کیفیت جو کہ ایک خیالی دنیا کا تاثر بناتا ہے، اور مصنوعی خوشی کے تاثرات دیتا ہے ۔ لوگ خود کو کچھ اور سمجھ بیٹھتے ہے، اس میں تشدد وغیرہ بھی ہو تو تکلیف محسوس نہیں کرتے، جب تک کہ وہ ہوش میں نہیں آتے۔

- پس نوشت کہنے کا مقصد یہ کہ بلوچستان کے چھوٹے صوبہ میں بہت سارے بچے اور بچیاں مختلف منشیات کے زد میں ہے، اور منشیات فروش نہ صرف ان کو ڈرگ فراہم کرتے ہے بلکہ ان سے جسم فروشی اور دوسرے غیر قانونی کام بھی کرواتے ہے۔ گزشتہ بیس سالوں میں بلوچستان خاص کر کوئٹہ یکسر نظر انداز ہوا ہے، جہاں پر سماجی فرق، غربت، دہشت گردی اور خوف ،نفسیاتی دباؤ نے لوگوں سے نہ صرف انکی انسانیت چھینی ہے بلکہ ایک تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہیں۔ جب ہم اس عالمی سرمایہ داری نظام کی بات کرتے ہے،اس سے ابھرنے والی استحصالی کاروبار جیسا کہ جسم فروشی ،ڈرگ اور ہتھیار کے منڈیوں کی بات کرتے ہے ، اس سے نجات کے لئے برابری کے بنیاد پر سماج کی بات کرتے ہے جہاں تمام طبقوں کو یکسر مواقع حاصل ہو، اسکی جہدوجہد کرتے ہے تو لوگ ہم سے بدظن ہوتے ہے کہ یہ لوگ ملک دشمن، امیر دشمن اور دین دشمن پالیسوں کے طرف راغب ہے۔ 
آج بھی سوال اپنی جگہ ہے کہ ایک شہر میں اتنے چیک پوسٹس اور سیکورٹی ہے پھر بھی منشیات کا کاروبار اس 
تیزی سے کیسے پھیل رہا ہے؟